بدھ 4 فروری 2026 - 22:29
کربلا کا پیغام حق، عدل، قربانی اور استقامت کا عالمگیر پیغام ہے: علامہ شہنشاہ حسین نقوی

حوزہ/ بنوں ضلع سجاول میں انجمن علی مرتضیٰؑ کے زیرِ اہتمام جشنِ ولادتِ سید الشہداء حضرت امام حسینؑ اور علمدارِ کربلا حضرت مولاؑ غازی عباسؑ کے موقع پر ایک عظیم الشان اور روحانی تقریب منعقد ہوئی، جس میں علماء، معززینِ علاقہ، نوجوانوں اور عاشقانِ اہلِ بیتؑ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بنوں ضلع سجاول میں انجمن علی مرتضیٰؑ بنوں کے زیرِ اہتمام جشنِ ولادتِ سید الشہداء حضرت امام حسینؑ اور علمدارِ کربلا حضرت مولاؑ غازی عباسؑ کی مناسبت سے ایک شاندار، بابرکت اور روح پرور تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ اس پروقار محفل میں علاقے کے جید علماء، معزز شخصیات، نوجوانوں اور عاشقانِ اہلِ بیتؑ کی کثیر تعداد شریک ہوئی۔

تقریب سے پاکستان کے معروف خطیب علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی نے خصوصی خطاب کیا۔ انہوں نے سیرتِ امام حسینؑ اور حضرت غازی عباسؑ کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ واقعۂ کربلا حق، عدل، قربانی اور استقامت کا ایسا عالمگیر پیغام ہے جو ہر دور کے انسان کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

معروف نوحہ و قصیدہ خواں برادر سید غلام حیدر شیرازی نے دل سوز اور عقیدت سے بھرپور قصیدہ خوانی پیش کی۔ تقریب کی نظامت و میزبانی مجلسِ وحدتِ مسلمین ضلع سجاول کے رہنما مولانا فیاض احمد شیخ اور برادر مختیار احمد دایو نے ارضا کارانہ طور خدمات انجام دی۔ اس موقع پر علامہ سید شہنشاہ حسین نقوی کو سندھ کی ثقافت کی علامت اجرک بطورِ تحفہ پیش کی گئی۔

اپنی تقریر میں علامہ شہنشاہ حسین نقوی نے اتحادِ بین المسلمین کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امام حسینؑ کی سیرت ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ اختلافات کے باوجود باہمی احترام، حسنِ سلوک اور اعلیٰ اخلاق کو فروغ دیا جائے اور تمام مسالک کے ساتھ رواداری کا رویہ اپنایا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حضرت امام حسینؑ ظلم کے خلاف قیام، دینِ اسلام کی بقا اور انسانیت کی سربلندی کی روشن علامت ہیں، جبکہ حضرت مولاؑ غازی عباسؑ وفا، اطاعت، شجاعت اور ایثار کا عظیم پیکر ہیں۔ ان مقدس ہستیوں کی سیرت ہمیں حق کا ساتھ دینے، مظلوم کی مدد کرنے اور اصولوں پر ثابت قدم رہنے کا درس دیتی ہے۔

آخر میں ملک و ملت، اتحادِ امت اور امن و سلامتی کے لیے خصوصی دعا کی گئی، جس کے ساتھ یہ روحانی اور تاریخی جشن اختتام پذیر ہوا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha